پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

حضرت علی علیہ السلام کی عدالت


لیلا عسکری


مقدمہ

عدالت وہ حقیقت ھے جس پر کائنات کا نظام قائم ھے بڑے بڑے آسمانی سیاروں سے لیکر کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے ذرات، سب میں عدالت کارفرما ھے اور اگر یہ عدالت و توازن ذرا سا بگڑ جائے تو نظام ھستی درھم برھم ھو جائے ۔ خود انسان کا وجود اور اس کے بدن کا سسٹم، خدا کے نظام توازن اور تعادل کا بہترین مظھر ھے اور بدن کے اسی متوازن نظام میں خلل پیدا ھو جانے کی صورت میں انواع و اقسام کی مھلک امراض وجود میں آتی ھیں ۔ جب کائنات کا نظام شمسی، نظام قمری اور انسان کا جسمانی نظام بغیر توازن اور عدالت کے نھیں چل سکتا تو پھر اتنا بڑا انسانی سماج اور پورا نظام حیات، عدالت و توازن کے بغیر کیسے منزل مقصود تک پہنچ سکتا ھے؟
لھٰذا پرسکون اور بے خوف و خطر زندگی گزارنے، اور کمال کی منزلوں کو طے کرنے کے لئے ضروری ھے کہ انسانی سماج اور نظام حیات بھی عدالت اور توازن کے مستحکم ستونوں پر استوار ھو، تاکہ تباھی و بربادی سے محفوظ رہ سکے اور انسانی معاشرے کی اسی ضرورت کے پیش نظر، اللہ تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین اور اپنے نمائندوں کو بھیج کر نوع انسانی کے لئے اپنی مخصوص ھدایت و راھنمائی کا انتظام کیا ھے ۔ چنانچہ خدا نے قرآن مجید میں انبیاء و مرسلین کی بعثت کا فلسفہ ان الفاظ میں بیان کیا ھے :
'' ولقد ارسلنا رسلنا … لیقوم الناس بالقسط '' یعنی: ھم نے واضح دلائل کے ساتھ اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب و میزان نازل کیا تاکہ انسانی سماج میں عدالت کا قیام ھو ۔ 1
اسلام کی نظر میں عدالت کا تعلق بین الاقوامی حقوق سے ھے ، یعنی اسلام عدالت کا برتاؤ برتنے میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان تفریق کا قائل نھیں ھے ۔ چنانچہ خداوند متعال فرماتا ھے :
'' یا ایّھا الذین آمنوا کونوا قوامین للّہ شھدآء بالقسط … '' اے صاحبان ایمان ! ھمیشہ اللہ کے لئے قیام کرو اور بر بنائے عدالت گواھی دو اور کہیں ایسا نہ ھو کہ کسی قوم کی دشمنی تم کو عدالت کے راستہ سے ھٹادے تم ھمیشہ عدل و انصاف کا برتاؤ کرو کہ عدالت پرھیزگاری کے زیادہ نزدیک ھے … ۔ 2

عدالت کا مفھوم

لفظ عدالت ظلم کے مقابلے میں استعمال ھوتا ھے اور لغت میں برابری، سچائی، استقامت اور حد وسط کے معنی میں آیا ھے ۔ 3
قرآن کریم کے عظیم الشان مفسر ، علامہ طباطبائی نے عدالت کے بارے میں بہت ھی عمدہ اور مفید وضاحت کی ھے اور وہ یوں کہ: '' عدالت زندگی کے کسی ایک پہلو تک محدود نھیں ھے بلکہ انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں پر محیط ھے ۔ عدالت کا مطلب یہ ھے کہ ان تمام اشیاء اور اشخاص کے درمیان برابری اور مساوات کا برتاؤ کیا جائے جو ایک مرتبہ اور منزلت رکھتے ھوں '' ۔ 4
اسلامی تعلیمات میں لفظ عدالت کا تین مقامات پر استعمال ھوتا ھے :
( ١ ) عدالت الٰھی ۔
( ٢ ) عدالت ذاتی، جو کہ قضاوت، نماز جمعہ و جماعت کی امامت وغیرہ کی شرط ھے ۔
( ٣ ) عدالت اجتماعی جو کہ سماج اور معاشرہ کے تمام شعبوں کو اپنے اندر شامل کرلیتی ھے ۔
ھم اس مقالہ میں عدالت کی ابتدائی دو صورتوں سے صرف نظر کرتے ھوئے فقط تیسری صورت یعنی عدالت اجتماعی کے بارے میں حضرت علی (ع) کے اقوال و ارشادات اور آپ کی سیرت طیبہ کا جائزہ لے رھے ھیں ۔

حضرت علی (ع) کی نظر میں عدالت کی اھمیت

جیسا کہ اوپر کی سطروں سے واضح ھوچکا ھے کہ عدالت وہ عظیم حقیقت ھے جسے نافذ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مرسلین بھیجے ۔ حضرت علی (ع) عدالت کو ھر شئے پر ترجیح دیتے تھے، چنانچہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا: عدالت افضل ھے یا جود و سخاوت ؟ تو آپ نے فرمایا:
عدالت افضل ھے ۔ جب کہ ایک سادہ لوح انسان کی نظر میں جود و سخاوت عدالت سے بالاتر ھے ۔ اور پھر حضرت علی (ع) نے دلیل یہ دی کہ عدل اس لئے افضل ھے کہ زندگی کے امور اور مسائل کو اپنی جگہوں پر قرار دیتا ھے، جب کہ سخاوت انھیں اپنی جگہوں سے ھٹا دیتی ھے ۔ 5
چونکہ عدالت کا مطلب یہ ھے کہ معاشرہ اپنے طبیعی مزاج پر چل رھا ھے اور ھر چیز اپنی صحیح جگہ پر ھے لیکن جود و سخاوت کا مطلب یہ ھے کہ معاشرہ اپنے طبیعی مزاج سے ھٹ گیا ھے، جس کی وجہ سے یہ ضرورت پیش آئی کہ معاشرہ کے کسی ایک فرد کو اس کے حق سے زیادہ دے کر اس کی ضرورت پوری کی جائے ۔
آپ نے عدل کی برتری پر دوسر ی دلیل یہ دی :
'': العدل سائس عام و الجود عارض خاص '' یعنی: '' عدالت ایک عام قانون اور عمومی مدیر ھے جو پورے معاشرہ پر محیط ھوتا ھے؛ جبکہ سخاوت ایک استثنائی صورت حال ھے '' ۔ نتیجةً عدل برتر اور افضل ھے ۔ 6
آپ عدالت کو ھمیشہ اور ھر حال میں فوقیت دیتے ھوئے فرماتے ھیں :
'' فان فی العدل سعة … '' یعنی: عدل میں وسعت اور لامحدود گنجائش ھے اور جو کوئی عدالت کی وسیع فضا میں بھی تنگی محسوس کرے تو وہ ظلم و ناانصافی کی تنگ فضا میں بدرجہ اولیٰ تنگی گھٹن اور محسوس کرے گا ۔ 7
حضرت علی (ع) عدالت کو ایک فریضہ الٰھی بلکہ ناموس الٰھی سمجھتے ھیں اور اس بات کی ھرگز اجازت نھیں دیتے کہ انسان کے سامنے ظلم و ستم ھو اور وہ خاموش تماشائی بنا کھڑا دیکھتا رھے؛ بلکہ اس کا فرض ھے کہ حتیٰ الامکان ظلم و ستم کو ختم کرنے اور عدل و انصاف کو عام کرنے کی سعی و کوشش کرے ۔ چنانچہ آپ خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ھیں :
'' اما و الذی فلق … '' یعنی: '' آگاہ ھو جاؤ، قسم ھے اس خدا کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور ذی روح کو پیدا کیا، اگر حاضرین کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کی وجہ سے مجھ پر حجت قائم نہ ھوگئی ھوتی اور اللہ نے علماء سے یہ عھد و پیمان نہ لیا ھوتا کہ وہ ظالم کے ظلم اور مظلوم کی مظلومیت پر خاموش نہ رھیں تو میں خلافت کی رسی کو اس کی گردن پر ڈال کر آج بھی ھنکا دیتا … '' ۔ 8
عام لوگوں کی نظر میں حکومت کا مقصد اقتدار، عیش و عشرت اور لذت طلبی ھے ۔ لیکن نمائندگان پروردگار کی نظر میں حکومت کا مقصد، معاشرہ میں عدل و انصاف کا قیام، ظلم و جور کا خاتمہ اور دنیا و آخرت میں نوع انسانی کی کامیابی اور کامرانی سے ھمکنار کرنا ھے ۔
ایک مرتبہ ابن عباس، حضرت علی (ع) کی خدمت میں حاضر ھوئے تو اس وقت آپ اپنا پھٹا پرانا جوتا سی رھے تھے، آپ نے ابن عباس سے پوچھا :
'' اس جوتے کی کیا قیمت ھوگی '' ؟ انھوں نے کہا: کچھ نھیں ! تو آپ نے فرمایا: ''میری نظر میں اس حکومت و ریاست کی قدر و قیمت اس جوتے سے بھی کمتر ھے ۔ مگر یہ کہ حکومت کے ذریعے میں عدالت کو نافذ کرسکوں، حق کو قائم کرسکوں اور باطل کو مٹا سکوں " ۔ 9
حضرت علی (ع) نے عدالت کو اتنی اھمیت دی اور اس طرح عدالت کو اپنی زندگی میں سمو لیا کہ عدالت آپ کی شخصیت کا ایسا حصہ بن گئی کہ جب بھی آپ کا تذکرہ ھوتا ھے، بلا فاصلہ ذھن، عدالت کی طرف متوجہ ھو جاتا ھے اور اسی طرح جب کبھی عدالت کا ذکر ھوتا ھے تو وہ عادل امام بے ساختہ یاد آجاتا ھے، جس نے اعلان بھی کیا تھا اور اپنے عمل سے ثابت بھی کیا تھا کہ:
و اللہ ! اگر مجھے سات اقلیم اس شرط پر دیئے جائیں کہ میں ایک چیونٹی کے منھ سے جو کا ایک چھلکا چھین لوں تو میں انھیں ٹھوکر مار سکتا ھوں، لیکن اس حد تک بھی بے عدالتی اور ظلم نھیں کرسکتا '' ۔ 10
آپ کی عدالت اتنی مشھور ھوئی کہ دین و مذھب کی حدوں سے گزر کر ھمہ گیر شکل اختیار کرگئی ۔ اور آج دنیا کا ھر مفکر اور دانشور، خواہ وہ کسی بھی ملت و مذھب سے تعلق رکھتا ھو، آپ کی عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو اپنا شرف سمجھتا ھے ۔ چنانچہ جارج جرداق نام کے ایک مسیحی دانشور نے آپ کی عدالت کے موضوع پر ۵ جلدوں پر مشتمل '' صوت العدالة الانسانیہ '' نام کی کتاب بھی تالیف کردی جو دنیا کی مختلف مشھور زبانوں میں ترجمہ بھی ھوچکی ھے ۔
حضرت علی (ع) نے اپنی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی، سماجی اور حکومتی زندگی کے ھر پہلو میں مکمل طور پر عدالت کو نافذ کیا ۔ اور بدیھی ھے کہ ان سارے موارد کی جمع آوری، اس مقالہ میں ھرگز نھیں ھوسکتی، لھٰذا ذیل کی سطروں میں ھم حکومتی اور اجتماعی مسائل میں بعض عناوین کے تحت آپ کی عدالت کے کچھ نمونے نھج البلاغہ کے تناظر میں پیش کر رھے ھیں :

قانون سازی اور قانون کے نفاذ میں عدالت

حضرت علی (ع) نے اپنی حکومت کے لئے جو قوانین مرتب کئے تھے وہ من و عن وھی قوانین تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلامی حکومت کے لئے معین فرمائے تھے، چنانچہ حضرت علی (ع) کی عدالت کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) کا ارشاد ھے :
'' کفّی و کفّ علی فی العدل سواء '' یعنی: عدالت میں میرا اور علی کا ھاتھ بالکل برابر ھے ۔ 11
اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ اسلام مالی اور دیگر مادی حتیٰ معنوی مسائل میں سارے انسانوں کو ایک ھی خانہ میں جگہ نھیں دیتا اور اس مسئلہ میں اسلام مارکسزم کا شدید مخالف ھے؛ لیکن جھاں قانون کا مسئلہ ھوتا ھے وھاں اسلام، عالم و جاھل، غریب و امیر، دوست و دشمن سب کو ایک نظر سے دیکھتا ھے ۔ حضرت علی (ع) اس سلسلہ میں فرماتے ھیں:
'' علیک بالعدل فی الصدیق و العدو '' یعنی: دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ عدالت سے پیش آؤ ۔ 12
آپ نے ایک نافرمان عامل کی تنبیہ کرتے ھوئے ایک خط میں فرمایا :
'' و اللّہ لو ان الحسن و الحسین … '' یعنی: و اللہ اگر حسن و حسین نے بھی یہ کام کیا ھوتا، تو ان کے لئے بھی میرے پاس کسی نرمی کا امکان نھیں تھا اور نہ وہ میرے ارادہ پر قابو پاسکتے تھے جب تک کہ ان سے حق کو حاصل نہ کر لیتا اور ان کے ظلم کے آثار کو مٹا نہ دیتا ۔ 13
آپ (ع) قانون کے نفاذ میں کسی مروت، خاندان پرستی اور تعلقات کے قائل نھیں تھے چنانچہ جناب عقیل نے جو کہ آپ کے سگے بھائی تھے، جب آپ سے اپنا قرض ادا کرنے کے لئے بیت المال سے کچھ اضافی رقم کا مطالبہ کیا تو آپ نے نہایت سختی سے انکار کر دیا ۔ 14
آج کی حکومتوں کو حضرت علی (ع) کی سیرت کو اپنا کر ایسے قوانین بنانا چاھئے جن میں صرف حکمرانوں کا نھیں بلکہ پوری قوم کا فائدہ ھو اور دنیا کو چاھئے کہ ملکی اور عدالتی قوانین کے نفاذ میں تفریق کی قائل نہ ھو ۔

گورنر کے انتخاب میں عدالت

آج کی دنیا میں حکومت کے نمائندوں اور اراکین کے انتخاب، نیز عھدوں اور منصبوں کی تقسیم میں مکر و فریب، رشوت، چرب زبانی، مال و دولت کی فراوانی ، تعلقات اور سب سے بڑھ، کر اپنے ذاتی منافع کو پیش نظر رکھا جاتا ھے، مگر جس چیز پر بالکل توجہ نھیں دی جاتی وہ انسان کی معنویت ، صداقت ، عدالت اور لیاقت و صلاحیت ھے ۔ لیکن علوی حکومت میں معاملہ بالکل بر عکس تھا ۔ وھاں کسی بھی چیز پر توجہ نھیں دی جاتی تھی؛ سوائے عدالت، معنویت اور لیاقت و صلاحیت کے ۔ حضرت علی (ع) نے اپنے اور پرائے کے امتیاز کو ختم کرکے جو شخص جس عھدہ کی صلاحیت رکھتا تھا وہ عھدہ اس کے سپرد کر دیا چنانچہ آپ کے ۵١ گورنروں کی فھرست پر جب نظر ڈالی جاتی ھے تو اس میں مھاجر و انصار، یمنی، نزاری، ھاشمی ، غیر ھاشمی ، عراقی ، حجازی اور پیر و جوان سب نظر آتے ھیں، جو چیز آپ سے پہلے کی حکومتوں میں بے نام و نشان تھی ۔
اس کے برعکس آپ کی نگاہ ولید، مروان، عمرو عاص اور طلحہ و زبیر جیسے مشھور اور سرکردہ افراد پر نھیں ٹکتی، چونکہ ان کے اندر وہ تقویٰ اور صلاحیت موجود نھیں تھی جو ایک اسلامی مملکت کے حاکم اور عامل میں ھونا چاھئے ۔ اگرچہ فقط طلحہ اور زبیر کو ان کی خواھش کے مطابق کوفہ اور بصرہ کا حاکم نہ بنانے کی وجہ سے آپ کو طرح طرح کی مشکلات، منجملہ جنگ جمل اور اس سے پہلے جنگ بصرہ ( جمل صغریٰ ) کا سامنا کرنا پڑا ۔
آپ نے دنیاوی سیاست دانوں کے برعکس، کسی بھی حال میں بڑی سے بڑی مادی منفعت اور سیاست کے بدلے عدالت کا سودا نھیں کیا، اور خلافت ملتے ھی تمام ظالم اور نااھل گورنروں منجملہ معاویہ جیسے طاقتور اور بانفوذ، گورنر کو معزول کر دیا کیونکہ جب آپ سے لوگوں نے کہا فی الحال معاویہ کو معزول نہ کیجئے ، ابھی آپ کی حکومت مستحکم نھیں ھوئی ھے ۔ اور وہ بغاوت کرکے آپ کی حکومت کے لئے خطرہ بن جائے گا ۔ جب حکومت کے ستون مستحکم ھو جائیں تو آپ بآسانی اس کو معزول کر دیجئے گا ۔ تو آ پ نے یہ کہہ کر لوگوں کو خاموش کر دیا کہ: '' میں ایک لمحہ کے لئے بھی ظلم و ستم کو برداشت نھیں کرسکتا '' ۔
اور تقریباً اسی سے مشابہ ایک دوسرے موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا :
'' أتامرونی ان اطلب النصر بالجور … '' یعنی: کیا تم لوگ مجھے مشورہ دے رھے ھو کہ میں ظلم و جور کے سھارے فتح و کامیابی حاصل کروں … 15
اور اس جملہ کے ذریعے آپ نے اس نظریہ پر خط بطلان کھینچ دیا جو کہتا ھے کی بلند اور نیک مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اچھے برے ھر قسم کے وسائل کا سھارا لیا جاسکتا ھے ۔

بیت المال اور مالی وسائل کی تقسیم میں عدالت

رسول اللہ (ص) عرب و عجم اور سیاہ و سفید کی تفریق کے بغیر سارے مسلمانوں کو بیت المال سے برابر کا حق دیا کرتے تھے ۔ لیکن ر،ں کیا اور نہ ھی اپنے کسی عامل کی طرف سے بیت المال میں خیانت اور اسراف کو برداشت کیا ۔
نھج البلاغہ کے مختلف خطبات اور مکتوبات اس بات پر گواہ ھیں کہ امیر المومنین (ع) نے بیت المال میں معمولی خیانت کرنے والوں کی شدید تنبیہ و سرزنش کی ھے اور بہت سے گورنروں کو اس خطا پر معزول بھی کیا ھے ۔

قضاوت میں عدالت

آپ کی عدالت اس سلسلے میں شھرۂ آفاق ھے اور اس موضوع پر بہت سی مستقل کتابیں لکھی گئی ھیں ۔ ھم ذیل کی سطروں میں فقط دو تین نمونوں کے ذکر کرنے پر اکتفاء کر رھے ھیں :
الف) ایک مرتبہ ایک شخص نے خلیفۂ دوم کے دربار میں حضرت علی (ع) کے خلاف شکایت کی، حضرت علی (ع) اس شخص کے ساتھ خلیفۂ دوم کے دربار میں پہنچے تو خلیفہ نے کہا: اے ابو الحسن ! آپ اپنے مدّعی کے ساتھ بیٹھئے ۔ جب مقدمہ کا فیصلہ ھوچکا تو خلیفہ نے حضرت علی (ع) کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھ کر اس کا سبب پوچھا، آپ نے فرمایا :
'' تم نے گفتگو کے دوران میرے مدّعی کو نام لے کر بلایا مگر مجھے کنیت کے ساتھ بلایا حالانکہ عدل و انصاف کا تقاضا یہ تھا کی تم مجھے بھی نام لے کر بلاتے '' ۔ 18
ب) حضرت علی (ع) نے اپنے مشھور صحابی ابو الاسود دوئلی کو ایک جگہ قاضی بنایا اور پھر کچھ ھی عرصے کے بعد معزول کر دیا تو انھوں نے پوچھا: یا امیر المومنین میں نے نہ تو کوئی خیانت کی اور نہ ھی کسی طرح کی ناانصافی اور ظلم، پھر آپ نے مجھے کیوں معزول کر دیا ؟ تو آپ نے فرمایا:
'' میں نے دیکھا کی تمھاری آواز مدعی کی آواز سے بلند ھو جاتی ھے ۔ لھٰذا تمھیں معزول کر دیا '' ۔ 19
حضرت علی (ع) نے فیصلہ، قضاوت اور حدود الٰھی کے نفاذ میں اپنے پرائے، دوست و دشمن، غلام و آقا، عرب و عجم سب کو ایک نگاہ سے دیکھا ۔ چنانچہ تاریخ میں ایسے بہت سے شواھد ملتے ھیں جن سے معلوم ھوتا ھے کہ آپ نے حکم الٰھی کی مخالفت اور جرم کے مرتکب ھونے کی صورت میں اپنے قریبی ترین چاھنے والوں پر بھی حدود الٰھی کو جاری کیا ۔ چنانچہ نجاشی نام کے آپ کے ایک قریبی چاھنے والے نے، جو بہت بڑے شاعر تھے اور ھمیشہ آپ کی حمایت میں اشعار کہا کرتے تھے، شراب پی لی ۔ تو آپ نے اس پر بھی شراب پینے کی حد جاری کردی اور جب اس کے قبیلہ والوں نے اعتراض کیا تو فرمایا :
'' اے بنی نہد کے بھائیو ! نجاشی بھی امت مسلمہ کی ایک فرد ھے ۔ لھٰذا ھم نے کفارہ کے طور پر اس پر بھی شریعت کی حد جاری کی ھے … '' ۔ 20

اسیروں اور مجرموں کے ساتھ عدالت

آج عدالت کے علمبردار اور حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے کس طرح سے عدالت اور حقوق انسانی کی دھجیاں اڑا رھے ھیں، یہ کسی بھی صاحب عقل و شعور سے پوشیدہ نھیں ھے ۔ آج امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں اسیروں اور مجرموں کے ساتھ جو برتاؤ کیا جاتا ھے اس کی معمولی مثالیں گوانٹا نامو اور عراق میں ابو غریب اور دیگر امریکی جیلوں سے ملنے والی کچھ سنسنی خیز خبریں ھیں جنھیں سن کر ھر انسان کا بدن لرز جاتا ھے اور دل دھل جاتا ھے ۔ ایک طرف قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک ھورھا ھے اور دوسری طرف حضرت علی (ع) اپنے قاتل کے سامنے دودھ کا پیالہ پیش کر رھے ھیں ۔ سچ تو یہ ھے کہ عدالت کے تشنہ انسان کو صرف اسلام ھی کے چشمۂ زلال اور سر چشمۂ حیات سے سیرابی حاصل ھوسکتی ھے ۔
حضرت علی (ع) نے اپنے قاتل کے بارے میں جو وصیتیں کی ھیں وہ درحقیقت منشور انسانیت ھیں ۔ آپ فرماتے ھیں :
'' دیکھو اگر میں اس ضربت سے جانبر نہ ھوسکا تو میرے قاتل کو ایک ھی ضربت لگانا؛ اس لئے کہ ایک ضربت کی سزا اور قصاص ایک ھی ضربت ھے اور دیکھو میرے قاتل کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنا کیونکہ میں نے سرکار دو عالم سے سنا ھے کہ خبردار ! کاٹنے والے کتّے کو بھی مثلہ نہ کرنا ( اس کے بدن کے اعضاء نہ کاٹنا ) '' ۔ 21

مذھبی اقلیتوں کے ساتھ عدالت

تاریخ شاھد ھے کہ مذھبی اقلیتوں، مثلاً اسلامی مملکت میں رھنے والے عیسائیوں اور یھودیوں وغیرہ کے لئے حضرت علی (ع) کی حکومت کا زمانہ ان کی پوری تاریخ کا سب سے سنہرا اور پُرامن دور ھے ۔ اور ان کے علماء اور مفکرین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ھیں ۔
حضرت علی (ع) اپنے گورنروں کو غیر مسلموں کے حقوق اور ان کے احترام کے بارے میں خصوصی تاکید کیا کرتے تھے ۔ جس کی ایک مثال مالک اشتر کا عھد نامہ ھے ۔ بطور مثال، صرف ایک جملہ ملاحظہ ھو :
'' سارے لوگ تمھارے بھائی ھیں، کچھ دینی اور کچھ انسانی اعتبار سے، لھٰذا تمھیں سب کے حقوق کا لحاظ رکھنا ھوگا … '' ۔ 22
تاریخ میں یہ واقعہ بہت مشھور ھے کہ آپ نے ایک پریشان حال بوڑھے عیسائی کو دیکھ کر مسلمانوں کی سخت توبیخ کی اور پھر بیت المال سے اس کے لئے ماھانہ وظیفہ معین کر دیا ۔ اور معاویہ کے لشکر نے جب '' انبار '' پر حملہ کیا اور اس کے ایک سپاھی نے ایک کافر ذمی عورت کا پازیب اور گوشوارہ چھین لیا تو آپ نے مسلمانوں کو جمع کر کے ایک خطبہ دیا اور فرمایا :
'' اس دردناک اور شرمناک واقعہ پر اگر کوئی مسلمان افسوس کرتے ھوئے مرجائے تو وہ قابل ملامت نھیں ھے '' ۔ 23
کیا آج دنیا میں عدالت کا نعرہ بلند کرنے والی حکومتوں میں مسلم اقلیتیں بھی پُر امن اور محفوظ ھیں ؟ !!
میں اپنے مقالے کو شاعر کے اس شعر پر ختم کر رھی ھوں:
صلّیٰ الالٰہ علیٰ جسم تضمنہ قبر
فاصبح فیہ العدل مدفوناً
'' خدا کا درود و سلام ھو اس جسم اطھر پر جس کے دفن ھونے کے ساتھ عدالت بھی دفن ھوگئی '' ۔

منبع: تعلیمات نھج البلاغہ / سعی و اھتمام: اسلامک تھاٹ برطانیہ


1. قرآن مجید ، سورۂ حدید / ۲۵ ۔
2. قرآن مجید ، سورۂ مائدہ / ۸ ۔
3. لسان العرب، ج ۹ ، ص ۸۳ ۔
4. علامہ طباطبائی ، تفسیر المیزان ، ج ۱۲ ، ص ۴۵۴ ۔
5. نھج البلاغہ حکمت / ۴۳۷ ۔
6. نھج البلاغہ حکمت / ۴۳۷ ۔
7. نھج البلاغہ خطبہ / ۱۵ ۔
8. نھج البلاغہ خطبہ / ۳ ۔
9. نھج البلاغہ خطبہ / ۳۳ ۔
10. نھج البلاغہ خطبہ / ۲۳۴ ۔
11. ابن المغازلی مناقب علی ابن ابی طالب ص ۱۲۹ ۔
12. غرر الحکم ، ج ۳ ، ص ۲۹۴ ۔
13. نھج البلاغہ مکتوب / ۴۱ ۔
14. نھج البلاغہ خطبہ / ۲۲۲ ۔
15. نھج البلاغہ خطبہ / ۱۲۴ ۔
16. ابن ابی الحدید ، شرح نھج البلاغہ ، ج ۷ ، ص ۳۶ ۔
17. نھج البلاغہ خطبہ / ۱۵ ۔
18. ابن ابی الحدید ، شرح نھج البلاغہ ، ج ۱۷ ، ص ۶۵ ۔
19. نوری ،مستدرک الوسائل ، ج ۳ ، ص ۱۹۷ ۔
20. مناقب ابن شھر آشوب ، ج ۲ ، ص ۱۴۷ ۔
21. نھج البلاغہ ، وصیت / ۴۷ ۔
22. نھج البلاغہ ، عھد نامہ مالک اشتر ۔
23. نھج البلاغہ خطبہ / ۲۷ ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
8+4 =