پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

نھج البلاغہ میں کلچر و ثقافت کی تعمیر


محمد مهدی ماندگار


(گروہ ترجمہ، سائٹ صادقین)

کلچر اور سیاسی ثقافت

ثقافت کی تعریف میں بھت سی تعبیریں موجود ھیں ۔ کلاسیک، مستند اور اعلی درجے کے انسانی معرفت و انسانی شناخت رکھنے والوں نے ثقافت و کلچر کو ایک وسیع معنیٰ میں " زندگی و حیات کے نھج " کے برابر تعریف کی ھے ۔ لیکن سماج کی پرکھ رکھنے والے ثقافت کو افکار و اقدار کا ایک مجموعہ جانتے ھیں 1 ایک دوسری تعریف کے مطابق کلچر نام ھے کسی معاشرہ کے عقیدوں، مسلکوں اور افسانوں کی عکاسی کرنے والا، یعنی ایک سماج و ماحول کے صور ذھنی (جو کچھ ان کے اذھان میں ھو) کا مجموعہ ھے جو ایک تعبیر کے مطابق، اس سماج کے نفسیاتی و روحانی عوامل و اسباب ھیں یہ تعریف کی گئی ھے 2 دوسرے الفاظ میں یہ کہ کلچر و ثقافت، مختلف و متعدد سطحوں پر بھت سے عناصر کو منجملہ عقائد، عواطف، اھمیتیں، اھداف و مقاصد، کرداروں، رجحانات اور اندوختہ و جمع کی ھوئی چیزوں کو شامل ھوتا ھے ۔ 3
ایک دوسری جگہ پر اس طرح بیان کیا ھے کہ کلچر و ثقافت، فضائل، ھنر، آداب، علوم و معارف اور تمام اخلاقی و روحانی قوتوں کا مجموعہ ھے کہ جو انسانوں کو ابتدائی حالات سے نکال کر معنوی کمالات کی طرف لے جاتا ھے ۔ 4
" ادوارد تایلور " نامی ایک انگریز " انسان شناس " سنہ ۱۸۷۱ع میں ابتدائی ثقافت کی کتاب میں ثقافت و کلچر کو ایک ایسا مجموعہ جانتا ھے کہ جو علم، ھنر، اخلاق، قانون، آداب و رسوم اور ھر طرح کی قابلیت و عادت کہ جس کے وسیلہ سے انسان نے سماج کی ایک فرد کا عنوان حاصل کر لیا ھے ۔ 5
ان تمام تعریفوں کے مجموعہ سے یہ نتیجہ لیا جا سکتا ھے کہ : " ثقافت، ایک قوم و ملت کے علوم، افکار، نظریات، عادات اور مثبت پھلوؤں و اھمیتوں کا ایک مجموعہ " محسوب ھوتا ھے ۔
اس کلچر و ثقافت کے لئے بھت سی خصوصیتیں اور امتیازات بیان کرتے ھیں کہ جو
اول : شخصیت عطا کرتی ھے ۔
دوسرے : حفاظت عطا کرتی ھے ۔
تیسرے : رائج و ترقی یافتہ اور بنیادی بھی ھے ۔
چوتھے : تاثیر کو قبول کرتی ھے ۔
پانچویں : فطرت ثانوی ھے ۔ 6
لھٰذا جب یہ کلچر و ثقافت ایک قوم و ملت کے علوم، افکار، نظریات، عادات و اطوار مثبت و اھم پھلوؤں کا مجموعہ ھے تو یہ کھا جا سکتا ھے کہ ھر معاشرہ و سماج کا کلچر و ثقافت بھی ایک بےنظیر وجود کے عنوان سے آھستہ آھستہ معاشرہ و سماج میں رونما ھو کر پائداری و ثبات پاتا ھے ۔ پھلا، موثر منبع جو ھر سماج و معاشرہ کے کلچر و ثقافت کے رونما ھونے اور وجود دینے میں تاثیر رکھتا ھے وہ اس سماج کے برجستہ رھبروں، مدیروں اور بانیوں کا اثر ھے ۔ 7
سیاسی کلچر و ثقافت کی بھی (اپنے سیاسی نظام کی بہ نسبت لوگوں کے، معتقدات اقدار اور اھمیتوں و مثبت پھلوؤں کے مجموعہ کا نام ھے) کی تعریف کی گئی ھے ۔ 8
سیاسی ثقافت کے نتائج اور معیار کو دو مقولہ میں تحقیق کرنا چاھئے : اول تو یہ کہ سیاسی کلچر و ثقافت، نظام سیاسی کو مشروعیت دیتا ھے اور سیاست کی بنیاد ھوا کرتا ھے، دوسرے یہ کہ لوگوں کو اس میں شرکت کرنے پر ابھارتا ھے ۔ اس لحاظ سے کھا جاتا ھے کہ جو چیز سیاسی نظام کو وجود دیتی ھے وہ ایک سماج و معاشرہ کے معتقدات ھیں یا دوسرے الفاظ میں کھا جاتا ھے کہ سیاسی نظام ایک ایسے درخت کے مانند ھے جس کی جڑ و بنیاد، سماج کے آداب، سنن، رسوم اور اس کے طریقے ھیں ۔ یہ معتقدات ھیں کہ جو ایک خاص اجتماعی، سماجی اور سیاسی اعمال و کردار کو وجود دیتے ھیں اور یھی کردار و اعمال و آپسی لین دین ایک خاص سیاسی نظام و سیاسی زندگی کو وجود بخشتے ھیں ۔ بلکہ اس طرح بیان کروں کہ یھی رفتار و کردار جو معتقدات و خیالات سے وجود میں آتے ھیں اور یہ کردار طول تاریخ میں مستمر و باقی رھے ھیں، یہ مشترک، مجموعی و مستمر نمونوں کے ایجاد کا سبب بنا جس کے نتیجہ میں اس سے اجتماعی عادتیں و طبیعتیں وجود میں آتی ھیں ۔ 9

دور جاھلیت کی ثقافت کے خصوصیات

امام علی (ع) کے دور میں جن چیزوں کو جاھلیت کے کلچر و تھذیب کی خصوصیتوں اور امتیازات کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ھے وہ حسب ذیل ھیں :
۱ ۔ قبیلہ کی زندگی کہ جس میں ایک فرد کوئی ذمہ داری نھیں رکھتا ھے اور پورا قبیلہ لوگوں و اشخاص کے اعمال و کردار کے مقابل میں جواب دہ ھوتا ھے ۔
۲ ۔ فطری طور پر مسلسل مبارزہ و مقابلہ، زندگی کے منابع کی کمی کی وجہ سے جس کے نتیجہ میں مسلسل جنگ، خونریزی، قتل اور غارت ۔
۳ ۔ بت پرستی
۴ ۔ قوم پرستی و قومی تعصب اور اس کے نتیجہ میں عرب اور غیر عرب میں مساوات نہ ھونا، یھاں تک کہ قبیلوں اور مرد و عورت کے درمیان ۔
۵ ۔ فحشاء، فساد اور حرام خوری ۔
یہ خصوصیتیں پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت کے مقابل میں خاص طور سے مدینہ میں اور رسول خدا (ص) کی حکومت کے دور میں انقلاب سے دوچار ھو گئیں اس طرح سے کہ اسلامی تمدن و تھذیب کی بنیاد، خالص توحیدی و الٰھی تھذیب و ثقافت پر رکھی گئی مگر رسول اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ان میں سے بعض خصوصیتیں دوبارہ زندہ ھو گئیں اور ان کی حیات مجدّد امام علی علیہ السلام کے زمانۂ حکومت تک باقی رھی، ان کی اھم ترین خصوصیات، نسلی و قومی تعصب، عرب و قریش کی برتری اور لائق و شائستہ لوگوں کی سرداری کے بجائے عھدوں پر دوسروں کی تقرّری ھے اس کلچر و تھذیب کا عروج خلافت عثمان کا زمانہ ھے ۔ لھٰذا رسول اکرم (ص) کی رحلت کے بعد عربوں کی تھذیب و کلچر نے سن رسیدہ و پیری کے عنصر کی وجہ سے (قبیلہ کی ساختہ و پرداختہ رسوم کی بنیاد پر) ابوبکر کو حاکم و امیر بنا دیا اور قریش کے مرتبہ و اقتدار نے اس کو مشروعیت و قانونی حیثیت دے دی پھر یہ چیز تمام خلفاء میں چلتی رھی یھاں تک کہ امام علی (ع) کا دور آ گیا ۔
گزشتہ وضاحتوں کو نظر میں رکھتے ھوئے عرب کے سیاسی کلچر و ثقافت کو ایک محدود ضمنی کلچر کے ڈھانچہ میں بیان کیا جا سکتا ھے اس لئے کہ وہ لوگ صرف اپنے اور اپنے اقرباء کے منافع کے بارے میں فکر کیا کرتے تھے ملکی مفاد اور قومی منافع ان لوگوں کی نظر میں اجنبی دکھائی دیتا ھے ۔
اسی وجہ سے لوگ جنگ جمل صفین اور نھروان میں متوجہ نھیں تھے کہ ملک اور اسلامی نظام کی حفاظت واجب ھے اگرچہ مسلمانوں کے قتل کا باعث ھو، اسی لئے وہ لوگ اسلامی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ھوئے اور اس سے علم و آگاھی نہ ھونے کی بناپر بڑی آسانی سے جنگ صفین میں معاویہ اور اس کے جیسوں کی تبلیغات کے زیر اثر آگئے ۔
دوسرے یہ کہ قبیلہ میں چار طرح کی طبقہ بندی کو ملحوظ رکھتے ھوئے (سردار اشراف، عام لوگ اور غلام) اس زمانہ کی سماجی و اجتماعی طبقہ بندی درج ذیل تھی:
۱ ۔ قبیلوں کے بزرگ و رؤساء ۔
۲ ۔ ثروتمند و مالدار جنھوں نے تجارت کے ذریعہ کافی مال اکھٹا کر رکھا تھا ۔
۳ ۔ متوسط طبقہ (جس میں چھوٹے موٹے سوداگر اور نفوذ رکھنے والے خاندان تھے) ۔
۴ ۔ غلاموں اور مظلوموں کا طبقہ ۔
اس بات کا لحاظ رکھتے ھوئے امام علی (ع) نے پیغمبر اکرم (ص) کے دامن میں تربیت پائی تھی آپ کی شخصیت و ذات گرامی اسلامی ثقافت و تھذیب کے سایہ میں رشد پائی تھی اور عرب کی جھالت کے کلچر سے کوسوں دور تھی اسلامی و مذھبی ثقافت و تھذیب سے مراد وہ ثقافت و تھذیب ھے کہ جس کے طور طریقہ، سنن و آداب اور رسوم و اعمال اور ان کی قدر و قیمت کو منبع وحی سے لیا گیا ھو یا جسے وحی الٰھی کے سر چشمہ سے تائید حاصل ھو ۔
اھم نکتہ یہ ھے کہ اسلام کی مذھبی تھذیب جو پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت سے شروع ھوئی وہ دوران جاھلیت کی تھذیب کی مکمل طور پر جگہ نہ لے سکی لھٰذا پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت کے امتیازات و خصوصیات کو دیکھتے ھوئے جس قدر بھی دور جھالت کی تھذیب و ثقافت پر غلبہ کی صورت نظر آتی تھی مگر پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد کے دور سے پتہ چلا کہ مذھبی تھذیب نے عرب کے جھالتی کلچر پر مکمل طور پر غلبہ نھیں کیا تھا اگرچہ خلیفہ اول و دوم کے زمانہ میں ظاھری طور پر پابندی کی وجہ سے تھذیبوں اور ثقافتوں کا ٹکراؤ نھیں دکھائی دیا لیکن خلیفہ سوم کے زمانہ میں کہ جو دور جھالت کے کلچر کے اقدار کا مدافع تھا اور امام علی (ع) کے دور حکومت میں کہ جو شدت کے ساتھ اسلامی مذھبی کلچر و تھذیب کے اقدار کے مدافع رھے ھیں اور دور جھالت کے خرافات سے جنگ کر رھے تھے ایسے وقت میں حتمی و یقینی طور پر بحران ظاھر ھوا ۔

اسلام کی مذھبی تھذیب کے امتیازات


۱ ۔ الٰھی محور ھونا

ھم نے بتایا کہ عرب کے دور جھالت کی روش اور کلچر کی خصوصیتوں میں سے بت پرستی اور الوھیت میں کثرت (ان گنت خدا ماننا) ھے مگر اسلام کی مذھبی تھذیب میں جس چیز کو پھلی اھمیت کے عنوان سے قابل توجہ قرار دیا گیا ھے وہ یکتا پرستی اور الٰھی محور ھونا ھے کہ جو تھذیب و سیاست کے وجود و تشخص کا مظھر ھے ۔

۲ ۔ قانون اور عدالت سب کے لئے

عرب کے دور جھالت کے کلچر میں حق و حقوق اور قانون کا کوئی خاص مقام ھی نھیں تھا کہ جس کی عدالت سے موازنہ کی ضروت ھو ۔ قبیلہ کا سردار جو کچھ حاکم کے عنوان سے کھتا تھا وھی قانون اور حق ھوتا تھا باقی تمام لوگ فرمان برداری اور اطاعت پر مجبور تھے، مگر اسلام کے مذھبی کلچر میں الٰھی قانون نافذ ھوتا ھے اور سماج کے ھر فرد کے لئے کچھ حقوق ھوتے ھیں کہ اس قانون کو صحیح طور پر نافذ کرنے اور حقوق کو مکمل طور پر حاصل کرنے کے لئے عدل و انصاف کا مرحلہ آتا ھے اور اسی معیار و کسوٹی پر لوگوں اور حکّام کو عادل یا ظالم کھا جاتا ھے ۔ امام علی (ع) کی حکومت میں یہ تھذیب دوسری تمام چیزوں سے زیادہ ممتاز اور قابل توجہ رھی ھے اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نھیں ھے اور اس تحقیق کی مختلف بحثوں میں اس معنیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ھے ۔

۳ ۔ شائستہ قیادت و سرداری

عرب کے دور جھالت کی تھذیب و کلچر میں معزولی یا تقرّری میں مقام کی شائستگی اور لیاقت کو نھیں دیکھا جاتا تھا بلکہ نسل خون اور قبیلہ کی نسبت کو نظر میں رکھتے تھے جس کی اجتماعی اور سیاسی مواقع پر بھت اھمیت تھی مگر اسلام کی مذھبی تھذیب و کلچر میں تقویٰ 10 جھاد 11 اور علم 12 منجملہ ان اوصاف میں سے ھیں کہ جو افراد کو لیاقت و شائستگی کا حامل بناتے ھیں ۔ اور مقام انبیاء (ع) و ائمہ (ع) کے علاوہ کہ جو ایک خاص الٰھی منصب ھے دوسرے تمام اجتماعی منصب و مقام، خاص لیاقت و شائستگی کی بنیاد پر دئے جانے کے قابل ھیں ۔

۴ ۔ مصلحت کا رجحان

جو چیز دور جھالت کی تھذیب و کلچر میں رائج تھی وہ ایک قوم و نسل اور ایک قبیلہ کے افراد کی برتری اور یہ کہ صرف ان کے منافع کو مدنظر رکھا جائے، لیکن مذھبی تھذیب و کلچر میں کہ جس کے معلم اور مروج امام علی ع ھیں سماج کا ایک خاص مقام ھے اس طرح کہ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد جو واقعات پیش آئے اس کے مقابل میں امام علی (ع) نے جب کہ امامت و جانشینی، حضرت علی کا حق تھا مگر جب امام علی (ع) نے دیکھا کہ مصلحت کا تقاضہ یہ ھے کہ کھیں تازہ اسلامی سماج انتشار و پراگندگی کا شکار نہ ھو جائے تو آپ (ع) نے اپنے ذاتی حق کو چھوڑ دیا اور سماج کی عمومی مصلحت کی فکر کی اور نہ فقط یہ کہ جو مخالفت وجود میں آئی تھی اسے ظاھر نھیں کیا بلکہ تاریخ گواہ ھے کہ خلفائے ثلاثہ کی امداد بھی کی تاکہ اسلامی سماج بحرانی حالات سے محطوظ رھے ۔

۵ ۔ فردی و اجتماعی ذمہ داری

دور جھالت کے کلچر کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ لوگ اجتماع کے مقابل بلکہ اپنے اعمال کے بنسبت بھی کسی طرح سے ذمہ دار نھیں تھے فقط قبیلہ ان کے اعمال کا جواب دہ ھوتا تھا لیکن اسلام کی مذھبی تھذیب میں خود شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ھے اسی لئے امام (ع) اپنے حکومتی فرمان میں مالک اشتر کو خبردار کرتے ھیں کہ تم اور تمھارا خاندان اور تمھارے اقرباء سب کا وظیفہ ھے کہ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ کریں : أنصف النّاس من نفسک و من خاصۃ أھلک… 13
اجمتاعی ذمہ داریوں کو بھی حضرت علی (ع) نے متعدد موقعوں پر یاد دلایا ھے ھم چند مواقع کے بیان پر ھی اکتفاء کرتے ھیں :
حضرت (ع) نے اپنے اکتسویں نامہ میں چار اھم ذمہ داریوں کو جو فی الواقع اجتماعی ذمہ داریاں بھی شمار ھوتی ھیں ان کی سفارش کرتے ھیں :
الف : امر بالمعروف اور نھی عن المنکر ۔
ب : راہ حق اور جھاد فی سبیل اللہ میں مشکلات اور سختیوں کو برداشت کرنا ۔
ج : محتاجوں اور غریبوں کی امداد (کلام کے اس حصّہ میں امام (ع) حقیقت انفاق کو آخرت کے لئے سرمایہ گزاری جانتے ھیں) ۔
د : قرض الحسنہ

۶ ۔ قومی رجحان

دور جاھلیت کے کلچر میں انتشار و پراگندگی اس کلچر و تھذیب کے خصوصیات میں سے رھی ھے کیونکہ سماج کی تشکیل ایک قبائلی تشکیل ھوا کرتی تھی ۔ لیکن ظھور اسلام کے ھمراہ اور اس کے پرچم کے نیچے ایک سماج کے تمام لوگ مختلف عقائد رکھنے کے باوجود پھلے تو یہ کہ قانون کے مقابل میں برابر ھیں، دوسرے یہ کہ ان کو عادی و فطری، سیاسی اور سماجی حقوق سے بھرہ مند ھونا اور حکومت کا وظیفہ ھے کہ تمام لوگوں کے حقوق کا دفاع کرے خواہ وہ غیر مسلمان ھوں ۔ لھٰذا اس اعتبار سے اسلام کی مذھبی ثقافت و تھذیب میں انتشار و بکھراؤ وجود نھیں پایا جائے گا اور قوم و ملت و مملکت کا مفھوم موجودہ صورت میں عالم وجود میں آئے گا ۔ مذھبی تھذیب و کلچر میں جب کہ امام علی (ع) حاکم تھے تو یھاں تک کہ اھل کتاب (یھودی، عیسائی اور زرتشتی) بھی قانون کے مقابل میں امن و امان کا احساس اور اپنے حقوق کے کامل طور پر پائے جانے کا امکان رکھتے تھے ۔ اسی لئے حضرت (ع) زرتشتیوں کی سفارش کے ضمن میں فارس کے حاکم کو تاکید کرتے ھیں کہ ان لوگوں کے ساتھ خوش رفتاری کرو اور اس علاقہ کے دھقانوں و کسانوں کی شکایت کے پیش نظر فارس کے والی کو خبر دار کرتے ھیں 14 اسی طرح امام علی (ع) شھر انبار پر حملہ کے واقعہ کے بارے میں ناراضگی کا اظھار کرتے ھیں کہ جس میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے اموال کو لوٹ لیا گیا تھا اور ایک یھودی عورت کے پیروں سے پازیب کو نکال لیا تھا 15 یہ اس بات کی دلیل ھے کہ امام (ع) پوری ملت و سماج پر اس بنیاد پر کہ وہ اسلامی نظام کے زیر سایہ زندگی بسر کر رھے ھیں ایک خاص توجہ رکھتے ھیں۔

۷ ۔ تقویٰ کا رجحان

منجملہ حضرت (ع) کی تاکیدوں میں سے وہ اوصاف و خوبیاں ھیں کہ جو انسان کو متقین اور پرھیزگاروں کے زمرہ میں قرار دیتی ھیں روایت ھے کہ امام (ع) کے پرھیزگار دوستوں میں سے ایک دوست نے جس کا نام ھمّام بن شریح تھا اس نے کھا : اے امیر الومنین (ع) ! میرے لئے پرھیزگاروں و متقین کے اوصاف اس طرح بیان کریں کہ گویا میں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رھا ھوں ۔ امام (ع) نے اس کے جواب میں تھوڑا توقف کیا اور فرمایا : اے ھمّام اللہ کا تقوی اختیار کرو اور نیکو کار بن جاؤ اس لئے کہ خداوند عالم پرھیزگاروں اور نیک کام کرنے والوں کے ساتھ ھے 16 لیکن ھمّام قانع نہ ھوئے اور اصرار کیا، یھاں تک کہ امام (ع) نے ارادہ کیا کہ متقین کے صفات کو بیان فرمائیں ۔ اس کے بعد اللہ کی حمد و ثنا بجا لائے پیغمبر (ص) پر درود بھیجا اور متقین کے صفات کو شمار کیا ۔ 17

۸ ۔ انسانی کرامت کا تحفظ

جنگ صفین کے موقع پر شام کی جانب جاتے وقت راستے میں شھر انبار کے دھقانوں سے امام (ع) کی ملاقات ھوئی وہ لوگ اپنے گھوڑوں اور سواریوں سے اتر پڑے اور حضرت (ع) کے آگے دوڑنے لگے امام (ع) نے فرمایا : تم لوگ یہ کیا کر رھے ھو ؟ ان لوگوں نے کھا : ھماری تھذیب و کلچر اور عادت میں ھے کہ ھم بزرگوں اور حکّام کا احترام اس انداز سے کرتے ھیں حضرت نے فرمایا : و اللہ ما ینتفع بھذا أمراءکم و انکم لتَتَشُقَون علی أنفسکم فی دنیاکم و تشقون بہ فی آخرتکم، و ما أخسر المشقّۃ وراءھا العقاب و رابح الدّعۃ معھا الأمان من النار 18
خدا کی قسم اس کام سے تمھارے امیروں کو کوئی فائدہ نھیں ھوتا ھے اور تم اپنے نفس کو اسی دنیا میں زحمت میں ڈالتے ھو اور آخرت میں رنج و مشقت سے دوچار ھوگے اور کس قدر خسارہ کا باعث ھے وہ رنج و مشقت کہ جس کے پیچھے عذاب ھو اور کس قدر فائدہ مند ھے وہ آسائش و آرام کہ جس کے ساتھ جھنم سے امان ھو ۔
اسی جیسے موقع پر حضرت (ع) نے ارشاد فرمایا : اِرجع فانّ مشیی مثلک مع مثلی فتنۃ للوالی و مذلّۃ للمؤمن 19 واپس جاؤ کیونکہ اس طرح تم جیسے لوگوں (سردار قبیلہ) کا میرے جیسے (حاکم) کے ساتھ چلنا حاکم کے حق میں فتنہ ھے اور مومن کے حق میں باعث ذلّت ھے ۔

حکومت علوی کی سیاسی تھذیب

نھج البلاغہ اس ذات گرامی کے کلام کا مجموعہ ھے کہ جو قوم و ملت کے امام رھبر اور ھادی ھیں نھج البلاغہ کہ جس کی پھلی تحریر و مسودہ تھذیب و ثقافت سازی کا ھے اس میں عمومی اور خصوصی سماج کی تھذیب کے مطالب ھیں درحقیقت نھج البلاغہ کامل طور پر راھوں، محنتوں، سعادتوں اور شقاوتوں کو دکھاتا ھے، نھج البلاغہ تربیت و راہ کمال تک پھونچنے کی ایک کتاب ھے جو فردی و اجتماعی ابعاد میں تمام زمانوں اور مکانوں کا دستور العمل ھے گویا آج، کل اور مستقبل کے لئے لکھی گئی ھے کہ جو زمانے کے گذرنے سے کھنہ نھیں ھوگی بلکہ اس میں زیادہ تازگی پیدا ھوتی ھے ۔ نھج البلاغہ، قرآن کریم کے بعد دینی معارف کی شناخت کا عظیم ترین منبع و خزانہ ھے جس میں اھم اور مثبت و منفی پھلوؤں کو بیان کیا گیا ھے
اسی لئے خود حضرت (ع) فرماتے ھیں: ینحدر عنّی السیل و لا یرقی الیّ الطّیر 20 علوم و معرفت کا سیلاب میری ذات (دامن کوھسار) سے جاری ھے اور میری بلندی افکار تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نھیں کر سکتا ھے ۔ نھج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید اس سلسلہ میں فرماتے ھیں: و جریٰ الوادی فتمّ علی القریٰ 21 جاری ھوا لیکن انتھا کو نھیں پھنچا اور بیابان میں اندر چلا گیا ۔
چونکہ دینی معتقدات، سماج اور اس کے اصول کو ایک خاص شکل و صورت عطا کرتے ھیں اور سیاسی معتقدات بھی سیاسی نظام کو ایک خاص شکل دیتے ھیں اسی لئے ھر سماج و ملت کے لوگ اپنے معتقدات کی بنیاد پر سیاسی نظام سے رابطہ برقرار کرتے ھیں ۔
جس طرح اسلامی نظام کے شرعی و قانونی ھونے کا معیار قرآن کریم اور سنت کی پیروی ھے، اسی طرح (سیاسی مشروعیت و قانونیت) کی مقبولیت کا معیار بھی لوگوں کے حمایتی و نظارتی ارتباط سے وابستہ ھے، اس بنیاد پر دینی ثقافت و تھذیب میں سیاسی کلچر کی شمولیت معیار و بنیاد ھو گی ۔

۱ ۔ سیاسی کلچر کی شمولیت

سیاسی کلچر و تھذیب کی شمولیت کی بحث ایک وسیع بحث ھے کہ جو ایک مکمل فرصت کی خواھاں ھے، ھم اس جگہ صرف ان عناوین کی طرف کہ جو نھج البلاغہ میں مورد استناد قرار پائے ھیں اشارہ کرتے ھیں :

۱۔ لوگوں میں مقبولیت (یعنی سیاسی مشروعیت و قانونیت لوگوں میں مقبولیت پر موقوف ھے) ۔
۲۔ وسائل کے ذریعہ لوگوں کی نظارت کی تقویت جیسے امر بالمعروف و نھی عن المنکر اور مسلمانوں کے راھنماؤں کو نصیحت ۔
۳۔ لوگوں کی رائے اور تدبیر سے بھرہ برداری ۔
۴۔ متکبروں کی راہ و رسم سے اجتناب و دوری، حضرت علی (ع) بادشاھوں اور سلاطین کی تاریخ کے مطالعہ میں گزشتہ لوگوں کی عاقبت و انجام کی توجہ اور ان کے متکبرانہ کیفیات اور روز روز کے پیرایہ میں زندگی بسر کرنے کے احوال و وضعیت سے درس عبرت لینے کو تقوائے الٰھی کا مظھر بتاتے ھیں اور اس طور طریقہ سے پرھیز کی سفارش کرتے ھیں 22 کتنے عمدہ و بھترین انداز سے خطبۂ قاصعہ میں بارگاہ خداوندی سے ابلیس کی دوری کا سبب تکبّر و غرور بتایا ھے امام (ع) فرماتے ھیں : فلو رخّص اللہ فی الکبر لأحدٍ من عبادہ لرخّص فیہ لخاصّۃ أنبیائہ و أولیائہ و لکنہ سبحانہ کرّہ الیھم التّکابر و رضی لھم التّواضع 23 اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو تکبّر کی اجازت دے سکتا تو سب سے پھلے اپنے مخصوص انبیاء اور اولیاء کو اجازت دیتا، مگر ھم دیکھتے ھیں کہ خداوند سبحان نے ان کے لئے بھی تکبّر کو ناپسند قرار دیا ھے اور ان کے تواضع سے خوش ھوا ھے جیسا کہ انھوں نے اپنے رخساروں کو زمین پر چپکا دیا تھا اور اپنے چھروں کو خاک پر رکھ دیا تھا اور اپنے شانوں کو مومنین کے لئے جھکا دیا تھا اور خود سماج کے کمزور لوگوں میں تھے کہ جن کا خداوند عالم نے بھوک سے امتحان لیا مصائب سے آزمایا، خوفناک حوادث و مراحل کے ذریعہ ان کا امتحان لیا اور ناخوش گوار حالات میں انھیں تہ و بالا کرکے دیکھ لیا ۔

۵ ۔ ریا کاری و مکّاری سے مبارزہ ۔ اس سے پھلے بیان کیا گیا ھے کہ حضرت علی (ع) کے اصول اور کلی طور پر سیاسی خطوط پر گامزن رھنے میں تھذیب و ثقافت (یعنی چاپلوسی سے اجتناب کرنا اور نصیحت قبول کرنا ھے) کی ترویج رھی ھے لھٰذا آپ (ع) خود بھی اس پر ثابت قدم رھے ھیں 24 اور دوسروں کو بھی اس کی سفارش کرتے تھے کہ وہ حق گوئی اور سچی بات کھنے والے افراد جن کی باتیں تلخ و کڑوی ھوتی ھیں وہ تمھارے نزدیک مقربین و برگزیدہ لوگوں میں ھوں اور چاپلوسی کرنے والے شیرین کلام و چرپ زبان کہ جو انجام نہ دئے گئے کاموں کو بھی بھت بڑا شمار کرتے ھیں اور ان کی تعریف و مدح خود خواھی کا باعث ھوتی ھے ایسے لوگوں سے پرھیز کرو ۔ 25
امام علی (ع) نے ۵۳ ویں نامہ کے ایک دوسرے حصّہ میں مالک اشتر کو خبردار کرتے ھوئے لکھتے ھیں : ایّاک و الاعجاب بنفسک و الثقۃ بما یُعجبک منھا و حبّ الاطراءِ فانّ ذلک من أوثق فُرَصِِ الشیطان فی نفسہ لیمحق ما یکون من احسانِ المحسنین 26 اور دیکھو کھیں ایسا نہ ھو کہ تم خود پسندی کا شکار ھو جاؤ اور تمھیں اپنی خوبیوں پر اطمینان ھو جائے اور اپنی تعریف بھلی لگنے لگے کہ یہ سبب باتیں شیطان کو تم پر حملہ کرنے کے مواقع فراھم کرتی ھیں ۔
امام (ع) کے علم غیب کی نشانیوں میں سے یہ ھے کہ ایک دن ایک آدمی امام (ع) کی بہ نسبت باطن میں بد بین تھا مگر ظاھری طور پر امام (ع) کی مدح و ثنا میں افراط سے کام لے رھا تھا، اس نے درج ذیل جملوں کو امام (ع) سے سنا : انا دون ما تقول و فوق ما فی نفسک ۔ 27 میں اس سے کم ھوں کہ جو تم زبان پر جاری کر رھے ھو اور اس سے بلند و بالا ھوں کہ جو تمھارے دل میں ھے ۔

۶ ۔ رسمی روابط کی نفی (سادگی و صمیمیت کی ترویج) ۔ حضرت امام علی (ع) ایک جگہ پر اپنے دوستوں، اطرافیوں اور لوگوں سے کھتے ھیں : مجھ سے اس طرح بات نہ کرو جس طرح تاریخ میں سرکش و جبّار لوگوں سے بات کرنے کی راہ و رسم رھی ھے اور مجھ سے اس طرح دور نہ ھو جس طرح لوگ غضبناک طاقتوروں سے خوف زدہ ھوکر دوری اختیار کرتے ھیں، مجھ سے ظاھری بناوٹ کے ساتھ برتاؤ نہ کرو اور اس بات کا گمان نہ کرو کہ اگر کسی حق بات کی تجویز مجھ سے کرو گے تو میرے اوپر گراں گزارے گا ۔ یا میں اپنے کو بڑا دکھانا چاھتا ھوں، اس لئے کہ جس شخص کو حق سننے یا عدالت کی بات کے پیش ھونے میں مشکل و پریشانی ھو اس شخص کے لئے عدالت پر عمل کرنا اور مشکل ھو جاتا ھے ۔ 28
یہ ساری باتیں حکومت میں لوگوں کی شرکت اور مشارکت کے رجحان کے بارے میں ان کو تقویت و قوت عطا کرتی ھے، وہ نظام کہ جو بلند مقاصد کی بنیاد پر، عدالت و مساوات کو نافذ کرنے، الٰھی اور معنوی اقدار و مقاصد کو رائج کرنے، لوگوں کے تعاون کے محور اور ظالمین سے مبارزہ کی بنیادوں پر قائم ھوتا ھے تو واضح ھے کہ لوگ اپنے وظیفہ کو جانتے ھیں کہ درج بالا اغراض و مقاصد کو پانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں اور حکومت بھی لوگوں کی اس مشارک کو غنیمت شمار کرتے ھوئے نظام کو بڑی تیزی سے منزل کمال و مقصود تک پھونچائے ۔

۲ ۔ حاکمیت الٰھی کے واجب الاتباع ھونے کی ترویج

اس سلسلہ میں کہ اسلام کی سایسی تھذیب و ثقافت قابل اتفاق ھے یا قابل نزاع، درج ذیل امتیازات و خصوصیات کو دیکھتے ھوئے بڑے اطمینان و آسانی سے کھا جا سکتا ھے کہ یہ سیاسی تھذیب قابل اتفاق ھے نہ کہ قابل نزاع ۔
۱ ۔ اسلامی مصادر میں وحدت کی تاکید خاص طور سے قرآن کریم اور نھج البلاغہ میں ۔
۲ ۔ سیاسی اور حکومتی معاملات میں نرمی و انعطاف کی تاکید ۔
۳ ۔ اسلام کے سیاسی کلچر میں عقد اخوت و بھائی چارگی کے عھد و پیمان کی اھمیت ۔
۴ ۔ غیر مسلمانوں کی تالیف قلوب و دل جوئی اور تالیف قلوب کی راہ میں اسلام کے اموال کے صرف کرنے پر تاکید ۔

۳ ۔ دینی، الٰھی اور معنوی اقدار کو زندہ رکھنا

جیسا کہ ھم نے ذکر کیا اسلامی حکومت کے بلند مقاصد میں سے ایک تربیت ھے اور یہ تربیت ضروری ھے کہ اس سے آگاہ کریں اور سماج قبول کرے نیز اس کے مثبت و منفی، اھم و غیر اھم پھلوؤں کو بیان کیا جائے ۔

۱ ۔ خود آگاھی

اسلام کے نکتۂ نظر سے علم کی اھمیت کی گفتگو نھیں ھے، بلکہ گفتگو اس کے اضافہ اور کوشش و تلاش میں ھے کہ جو قرآن کریم 29 اور سنت میں 30 ایک اصل کے عنوان سے مورد تاکید واقع ھوا ھے اور اس کا انکار یعنی بےنیازی و استغناء کا احساس کرنا طغیانی و سرکشی کا سبب بتایا گیا ھے ۔ 31 اسی بنا پر امام (ع) نے سیاست کے کلی اصول میں سے اس کو ایک اصل قرار دیا ھے اور اسے مدیروں و حکّام کی تعلیم کے لئے خصوصی طور پر اور تمام لوگوں کی تعلیم کے لئے عمومی طور سے ھر فرصت سے فائدہ اٹھاتے ھیں حضرت (ع) کے خطبے اور خاص طور پر آپ (ع) کے خطوط اس مدّعیٰ پر شاھد ھیں ۔
امام (ع) نے اپنے اھم ترین خط کہ جس میں آپ نے مالک اشتر نخعی سے خطاب کیا ھے اس میں مدیریت کے دو رکن، ذمہ داری اور کام میں مھارت کا ھونا ھے اسے بیان کرتے ھیں، امور میں مھارت کے سلسلہ میں، مالک کو علماء و حکماء کے پاس زیادہ آمد و رفت اور دوستی کی ترغیب دلاتے ھیں : و اکثر مدارسَۃَ العلماء و مناقشۃ الحُکماء فی تثبیت ما صَلُح علیہ أمر بلادک و اقامۃ ما استقام بہ الناسُ قبلک 32 ان مسائل کے بارے میں جن سے علاقہ و سماج کے امور کی اصلاح ھوتی ھے اور وہ امور قائم رھتے ھیں جن سے گزشتہ افراد کے حالات کی (ان کی زندگی میں صحیح) اصلاح ھوتی ھے علماء اور حکماء سے برابر رفت و آمد رکھنا ۔

۲ ۔ تربیت کا محور (خانوادہ کے ذریعہ سماج کو قبول کرنا)

بزرگ انسانوں کا طریقہ رھا ھے کہ اپنی عمر کے آخری لمحات میں، اپنے آراء و نظریات کا خلاصہ وصیتوں اور سفارش کے ضمن میں حوالی موالی و اطرافیوں کے لئے ذکر کرتے ھیں ۔ امام علی (ع) نے بھی ایک جامع و کامل وصیت نامہ نہ فقط یہ کہ اپنے فرزندوں اور آس پاس اٹھنے بیٹھنے والوں کے لئے بیان کیا ھے بلکہ اس لحاظ سے کہ آپ (ع) امام المتقین من الاولین و الآخرین ھیں وصیتوں کو طول تاریخ میں تمام بشریت کے لئے بیان کیا ھے کہ جس کا ایک حصّہ ایک باپ کی وصیت اپنے فرزند کے لئے نھج البلاغہ کے نامہ نمبر اکتیس میں موجود ھے یہ وصیت نامہ ایک بھترین تعبیر و توصیف کے ساتھ انسان کی زندگی میں حوادث روزگار کے نشیب و فراز سے شروع ھوا ھے : من الوالد الفان… الی المولود المؤمّل ما لا یدرک ۔ بعض لوگوں نے حضرت (ع) کے تربیتی اور تھذیبی وصیت نامہ کو درج ذیل محور میں تقسیم کیا ھے ۔ 33
جو ان کے دل کا بیان اور خالی زمین سے اس کی تشبیہ کہ جو ھر طرح کی زراعت و کھیتی کے لئے آمادہ ھو اسے تربیت کے عنوان سے بھترین موضوع قرار دیا ھے کہ جس میں والدین کا وظیفہ ھے کہ اس پاک و صاف زراعت کی تعلیم و تربیت کریں قبل اس کے کہ وہ سخت ھوجائے ۔ 34
تربیت میں اعتماد حاصل کرنے کی تاثیر کا بیان، امام (ع) درج بالا عبارت کے ساتھ وصیت کو مھربانی و عطافت کی تحریک، خیر خواھی کا اظھار اور محبت سے شروع کرتے ھیں 35 وصیت کو جاری رکھتے ھوئے تیرہ مرتبہ لفظ " بُنَّی " سے استفادہ کرتے ھیں کہ جس میں ایک قسم کی عاطفت و محبت پائی جاتی ھے ۔ 36 دوسرے حصّہ میں گزشتہ لوگوں کے تجربہ کا بھترین خلاصہ بیان کرتے ھیں حضرت (ع) اس وصیت میں بخوبی فرماتے ھیں کہ والدین کا وظیفہ صرف خوراک و پوشاک کی ضرورتوں کو پورا کرنا نھیں ھے بلکہ ان تمام چیزوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ھے جو فرزندوں کی روح و رواں سے متعلق ھیں وہ بھی والدین کے وظائف میں شمار ھوتے ھیں ۔ 37
اس اقدار کا بیان کہ گزشتگان آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ بن سکتے ھیں اور دوسروں کے تجربوں سے تربیتی امور میں استفادہ کرنا چاھئے ۔ 38
تربیت میں ذات خداوند عالم کی طرف توجہ کی تاثیر کو بیان کرنا 39 امام (ع) اس حصّہ میں خدائے تعالیٰ کی شناخت پر تاکید اور تربیت میں اس شناخت کے ابعاد کی تاثیر کو بیان کرتے ھیں کہ جس میں عمدہ ترین چیز خداوند عالم سے دعا کرنا ھے، جب انسان خدائے خالق و قادر کی قدرت و توانائی کو دیکھے گا تو سعی کرے گا کہ خداوند عالم کی امداد کے حسن ظن کی قوت کے ضمن میں اپنے رشد و کمال کے سلسلہ میں اس خالق یکتا و توانا سے بھی امداد مانگے ۔
تربیت میں قیامت کی طرف توجہ کی تاثیر کا بیان 40 حضرت (ع) اس حصّہ میں موت کی طرف توجہ کو دنیوی لذّتوں کو منقطع کرنے کے عنوان سے، دنیا کے فانی ھونے کی اھم ترین نشانی اور انسان کا عالم بقاء کی طرف منتقل ھونا، مواقف کی طرف متوجہ رھنا اور موت کے بعد کی دنیا کی فکر کرنا انسان کی تربیت کے اھم ترین عوامل و اسباب میں سے بتاتے ھیں اور ان آٓثار کی طرف متوجہ رھنے کے فوائد میں یہ ھے کہ اول یہ کہ انسان موت کے لئے تیار رھتا ھے، دوسرے یہ کہ وہ فانی دنیا سے وابستہ و دل بستہ نھیں رھتا ھے ۔
تیسرے یہ کہ موت کے بعد کی دنیا کے لئے زاد راہ و توشہ کو تیار رکھتا ھے خود سازی اور اس کے مراحل کا بیان 41 اس حصّہ میں حضرت (ع) نے تقویٰ دل کی بیداری، معرفت کے کسب کی اھمیت، دین کی آگاھی، صبر و استقامت و تلاش کا مقام، احتیاط و اعتدال کا محل، وقت کی شناخت کی ضرورت اور ناپسندیدہ صفات (ھوا پرستی، عجب، خود بینی، زبان کی آفتوں اور حرام غذا سے اجتناب کو بیان کیا ھے اور ان عوامل و اسباب کے اثر انداز ھونے کو خود سازی کے سلسلہ میں بیان کیا ھے ۔
اجتماعی ذمہ داریوں کا بیان جیسے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر

۳ ۔ اعتدال و مساوات

حضرت (ع) نے نھج البلاغہ میں ھر چیز سے زیادہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ھے کہ اگر اس دنیا کے فانی و موقت ھونے اور دار آخرت کی باقی و جاودان ھونے کی طرف توجہ ھو جائے تو انسان کی فردی و اجتماعی زندگی میں انقلاب پیدا ھو جائے گا، لھٰذا ایک جگہ اس قسم کی صحیح دنیوی رغبت اور دنیا کو آخرت کا وسیلہ اور آخرت کو اپنا مقصد قرار دینے خود سازی کے مرحلہ میں ایک اھم قدم بیان کرتے ھیں 42 اور دوسری جگہ پر اس نظریہ و غور و فکر کو فتنہ سے نجات کا راز شمار کرتے ھیں 43 دوسرے موقع پر نظام کی سلامتی و حفاظت کو اس تفکر و نظریہ پر موقوف جانتے ھیں 44 کبھی لوگوں اور اشراف یا دنیا پرستوں اور زاھدوں کے فرق کو اس تھذیبی ذائقہ میں (دنیا کو آخرت کے وسیلہ کی نظر سے) بیان کرتے ھیں 45 ایک جملہ میں اس طرح کھوں کہ اس طرح کی نظر کو زھد، آزادی اور دنیا سے وابستگی نہ ھونے کو بیان کرتے ھیں اور دوسری ھر چیز سے زیادہ دنیا پرستی کی طرف رغبت و رجحان رکھنے والوں کی ملامت کی ھے اور دنیاداری و مادی وابستگی کے نتائج کو گوش گزار فرمایا ھے کہ جو حسب ذیل ھیں : اجنبیّت و اسیری 46 خود نمائی 47 دین فروشی 48 خیانت 49 پریشانی و افسردگی 50 سیاسی و اجتماعی فساد 51 جنگ و خونریزی 52 تھذیبی و ثقافتی انحطاط 53 فکری محدودیت 54 جھاد سے فرار کرنا 55 معنوی و روحانی جمود 56 وغیرہ
اس تھذیبی و ثقاتی ذائقہ کے بھت سے مظھر و نشانیاں ھیں منجملہ ان میں سے برابری، اعتدال اور مساوات ھے ۔
جس چیز نے انسانوں کو دنیا سے صحیح طریقہ سے فائدہ اٹھانے سے منحرف کیا ھے وہ افراط یا تفریط کا راستہ رھا ھے ۔ افراط کے راستہ پر چلنے والوں و راھیوں نے اس قدر دنیا سے میل و رغبت پیدا کر لیا ھے کہ انھیں دنیا پرست کھنا چاھئے اور دنیا داری کے علاوہ وہ کچھ سوچتے بھی نھیں ھیں، دوسری طرف تفریط کے راستہ پر چلنے والے اس طرح دنیا سے الگ ھو گئے ھیں کہ جیسے آخرت کے لئے دنیا کے علاوہ اور کوئی راستہ موجود ھے ۔ مگر جو چیز روح و حقیقت اسلام سے سمجھ میں آتی ھے وہ یہ کہ دنیا اور جو کچھ دنیا سے متعلق ھے اس سے بھترین طریقہ سے فائدہ اٹھانا نہ صرف یہ کہ فقط مذموم نھیں ھے بلکہ ممدوح بھی ھے 57 جو کہ راہ اعتدال و درمیانی راستہ ھے اس طرح کہ نہ دنیا میں بالکل ڈوب جائیں اور نہ دنیا سے کامل طور پر جدا ھوجائیں ۔ اس سلسلہ میں امام علی (ع) کے جامع و بھترین کلمات ھیں جو حضرت (ع) نے ایک خارجی کے مقابل میں کہ جو دنیا کی ملامت و سرزنش کر رھا تھا، بیان فرماتے ھیں : انّ الدنیا دارصدقٍ لمن صدقھا، و دار عاقبۃٍ لمن فھم عنھا و دار غنی لمن تزوّد منھا، و دار موعظۃ لمن اتعظّ بھا، مسجد احبّاء اللہ و مصلّی ملائکۃ اللہ و مھبط وحی اللہ، و متجر اولیاء اللہ اکتسبوا فیھا الرحمۃ و ربحوا فیھا الجنۃ ۔ 58
بیشک دنیا سچائی کا گھر ھے سچوں کے لئے اور سمجھ دار کے لئے امن و عافیت کی منزل ھے اور بے نیازی کا گھر ھے توشہ لینے والوں کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے والوں کے نصیحت کا مقام ھے ۔ یہ خدا پرستوں کے لئے سجود کی منزل اور ملائکہ الٰھی کا مصلّی ھے یھیں اللہ کی وحی کے نازل ھونے کی جگہ ھے، یھیں اولیائے خدا آخرت کا سودا کرتے ھیں کہ جس کے ذریعہ وہ رحمت خدا تک دست رسائی اور جنت کو فائدہ میں حاصل کر لیتے ھیں ۔

۴ ۔ ان عھد و پیمان کی وفاداری جو انسان، اللہ اور اس کی مخلوق سے رکھتا ھے


جب انسان نے اس دنیا کو دار عمل اور کھیتی جان لے اور دار آخرت کو اس کے عکس العمل اور محصول کی منزل تسلیم کرلے تو وہ سعی و کوشش کرے گا کہ جو عھد و پیمان خداوند عالم سے کیا ھے اسے انجام دے جیسے واجبات کو انجام دینا اور حرام کاموں کو ترک کرنا ۔ 59 اور جو عھد و پیمان اللہ کے بندوں سے باندھتا ھے ان کا بھی پابند ھوگا اگرچہ وہ مسلمان نہ ھوں 60 ۔

۵ ۔ تکبّر سے مقابلہ اور ظلم و زر کو محور قرار دینے سے اجتناب 61


۶ ۔ صلابت و صراحت 62


۷ ۔ رھن سھن و معاشرت کے آداب کا بیان

اس سلسلہ میں امام علی (ع) کی سفارشوں میں سے یہ ھے کہ انسان جو کچھ اپنے لئے پسند کرتا ھے وھی دوسروں کے لئے بھی پسند کرنا چاھئے اور جو اپنے لئے ناپسند کرتا ھے وھی دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرنا چاھئے، دوسروں پر ظلم نہ کرے بلکہ نیکی کرے، جس طرح وہ چاھتا ھے کہ اس پر ظلم نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ نیکی کی جائے، دوسرے کے مقابل میں غصّہ کو پی جائے، نرمی اور حسن ظن کے ساتھ دوسروں سے سلوک کرے ۔
امام (ع) دوسری جگہ پر ایک اچھے دوست کی واقعی قدر و قیمت کے ضمن میں اپنے دوستوں میں سے ایک دوست کے صفات 63 کو اچھے دوست کے عنوان سے اس طرح بیان کرتے ھیں : کان لی فیما مضی اخ فی اللہ، و ما یعظمہ فی عینی صغر الدنیا فی عینہ و کان خارجاً من سلطان بطنہ، فلا یشتھی ما لا یجد و لا یکثر اذا وجد، و کان اکثر دھرہ صامتاً، فان قال بذَّ القائلین و نقع غلیل السائلین و کان ضعیفاً مستضعفاً 64 ۔
گزشتہ زمانہ میں خدا کے لئے میرا ایک بھائی تھا، جس کی عظمت میری نگاھوں میں اس لئے تھی کہ دنیا اس کی نگاھوں میں حقیر تھی اور اس پر پیٹ کی حکومت نھیں تھی جو چیز نھیں ملتی تھی اس کی خواھش نھیں کرتا تھا اور جو مل جاتی تھی اسے زیادہ استعمال نھیں کرتا تھا اکثر اوقات خاموش رھا کرتا تھا اور اگر بولتا تھا تو تمام بولنے والوں کو چپ کر دیتا تھا سائلوں کی پیاس کو بھجا دیتا تھا اور بظاھر عاجز و کمزور تھا مگر… ۔
امام (ع) اپنے اس فصیح و بلیغ کلام میں ان عظیم صفات کو کہ جو ان صفات کے حامل شخص کو دوستی و رابطہ برقرار کرنے کے قابل بنا دیتے ھیں شمار فرمایا ھے : فعلیکم بھذہ الخلائق فالزموھا و تنافسوا فیھا فان تستطیعوھا فاعلموا أنّ اخذ القلیل خیر من ترک الکثیر 65 لھٰذا تمھارے لئے ضروری ھے کہ ایسے اخلاق کو اختیار کرو اور ان کے حاصل کرنے میں ایک دوسرے کی رقابت و مقابلہ کرو اور اگر ایسا نھیں کر سکتے تو جان لو کہ ان میں سے بعض اور قلیل کو اختیار کر لینا، کثیر کے ترک کر دینے سے ھر حال میں بھتر ھے ۔

۸ ۔ ان صفات کا بیان جو انسان کو اس کی خلقت کے مقصد سے ھم آھنگ کرتی ھیں

حضرت امام علی (ع) اپنے ایک معروف خطبہ میں بنام خطبۂ غرّاء جو امام (ع) کے حیرت انگیز خطبوں میں شمار ھوتا ھے 66 صفات خداوند عالم، تقویٰ و پرھیزگاری کی وصیت اور دنیا و آخرت کی حقیقت کو بیان کرنے کے بعد خدا کے بندوں کے احوال و اوصاف کو بیان کرتے ھیں اور درج ذیل چیزوں کو انسان کی اس کے غرض خلقت کے موافق بتاتے ھیں ۔
۱ ۔ صحیح راستے اور صراط مستقیم پر گام زن رھنا
۲ ۔ اللہ کی مرضی و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں رھنا ۔
۳ ۔ نیک و صالح کاموں میں سبقت و پھل ۔
۴ ۔ اللہ کا تقویٰ حاصل کرنے کی تلاش و کوشش اور اس سے ڈرنا ۔
۵ ۔ عذر خواھی اور خطاؤں کے اعتراف کی کیفیت کی تقویت ۔
۶ ۔ اللہ کی طرف سے معین کئے گئے راھنماؤں کے بتائے ھوئے راستے پر چلنے کی کوشش کرنا ۔
۷ ۔ باطنی طھارت و پاکیزگی کی کوشش کرنا ۔
۸ ۔ آخرت کی دنیا کو آباد کرنے کا علم حاصل کرنا 67 ۔



۱ ۔ بر گرفتہ از: مسعود چلبی، جامعہ شناسی نظام، ص ۵۴ ۔
۲ ۔ موریس دو ورژہ، جامعہ شناسی سیاسی، ترجمہ دکتر ابوالفضل قاضی،(تھران، ۱۳۶۷، ص ۱۶۰ ۔
۳ ۔ محمد تقی جعفری، فرھنگ پیرو و فرھنگ پیشرو، ص ۲۲ ۔
۴ ۔ رضا ثقفی، مفاھیم فرھنگ در ادبیات فارسی، مجلہ فرھنگ و زندگی شمارہ ۱، سال ۱۳۴۸، ص ۲۵ ۔
5. Milton Singer”Culture internasional Encyclopedia Of Sosial Scienesvol” 3. 1996. P. 527
۶ ۔ علی باقی نصر آبادی، مبانی جامعہ شناسی (جزوہ درس دانشگاہ آزاد کاشان) ص۲۲۔ ۲۵ ۔
۷ ۔ لذا گفتہ می شود: " النّاس علی دین ملوکھم "
۸ ۔ عبدالرحمن عالم، بنیاد ھای علم سیاست، چاپ چھارم، (تھران: نشرنی، ۱۳۷۷) ص ۱۳۔
۹ ۔ برگرفتہ از : مبانی جامعہ شناسی، ترجمہ غلام عباس توسلی، (تھران سمت، ۱۳۷۲) نگرشی جدید بہ علم سیاست، ترجمہ شجاعی، (تھران: دفتر مطالعات، ۱۳۶۷)
۱۰ ۔ ان اکرکم عنداللہ اتقیکم ۔ (حجرات/۱۳)
۱۱ ۔ فضل اللہ المجاھدین علی القاعدین اجرا عظیماً (نساء/۹۵)
۱۲ ۔ ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون (زمر/۹)
۱۳ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ۵۳ ۔
۱۴ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ۱۹۔
۱۵ ۔نھج البلاغہ، خطبہ ۲۷۔
۱۶ ۔ چنانچہ غور فرمائیں، امام (ع) اپنے اس مختصر سے کلام سے یہ نکتہ بیان کرنا چاھتے ھیں کہ تمام خوبیاں دو اھم باب میں جمع کی جا سکتی ھیں:
الف ۔ تقوائے الٰھی، ب ۔ نیک اعمال ۔
۱۷ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۱۸۴، میں بعض لوگوں نے صفات کو اس طرح شمار کیا ھے کہ اس اعداد ۱۱۰ بنتے ھیں ۔
۱۸ ۔ نھج البلاغہ، حکمت ۳۶۔
۱۹ ۔نھج البلاغہ، حکمت ۳۲۳۔
۲۰ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ۳ ۔
۲۱ ۔ ابن ابی الحدید، شرح نھج البلاغہ، ج۱، ص ۵ ۔
۲۲ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۱۸۱۔
۲۳ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۱۹۱۔
۲۴ ۔ جنگ صفین کے موقعہ پر جس وقت حضرت (ع) نے تقریر فرمائی تو درمیان کلام میں آپ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے حضرت (ع) کی مدح و ثنا کی، امام (ع) نے اپنی تقریر کے درمیان، چاپلوسی کو حکام و حکمرانوں کے پست ترین حالات میں شمار کیا اور خود کو اس حالت سے دور جانا ھے ۔ نھج البلاغہ خطبہ ۲۰۷۔
۲۵ ۔ ثم لیکن اثرھم عندک اقوالھم بمرّ الحقّ لک…۔ (نھج البلاغہ، خطبہ، نامہ(۵۳)
۲۶ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ۵۳ ۔
۲۷ ۔ نھج البلاغہ، حکمت ۸۰ ۔
۲۸ ۔"فلا تکلّمونی بما تکلّم بہ الجبابرۃ و لا تتحفّظو منّی بما یتحفّظ بہ عند البادرۃ ...(نھج البلاغہ، خطبہ ۲۰۷)
۲۹ ۔ حضرت موسیٰ (ع) جناب خضر (ع) کے ملاقات کے بعد ان سے درخواست کرتے ھیں کہ اپنی شاگردی کرنے دیں اور ان کے علم لدنّی سے اپنے رشد و کمال کے سلسلہ میں استفادہ کریں ۔ قال لہ موسی ھل اتبعک علیٰ عن أن تعلّمن ممّا علّمت رشدا (کھف/ ۶۶) یا حضرت پیغمبر اکرم (ص) کو حکم ھوتا ھے کہ ھمیشہ خداوند عالم سے علم کا مطالبہ کرتے رھیں ۔ و قل ربّ زدنی علماً (طہٰ/۱۱۴)
۳۰ ۔ اسلامی احادیث میں کسی بھی طرح کی زمانی، مکانی اور صنفی محدودیت علم حاصل کرنے کی وجود نھیں رکھتی ھے، اسلامی مصادر و احادیث میں فقط علم نافع و علم غیر نافع کی سرحد قائم کی گئی ھے ۔
۳۱ ۔ کلاّ انّ الانسان لیطغی ان رآہ استغنی (علق/ ۷) اور ایک حدیث میں آیا ھے کہ ۔ من استوی یوماہ فھو مغبون ۔ جس کے دو دن برابر ھوں وہ گھاٹے میں ھے ۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج ۱، ص ۱۷۷)
۳۲ ۔ نھج البلاغہ، نامہ، ۵۳ ۔
۳۳ ۔ عبد الحمید زھادت، علیم و تربیت در نھج البلاغہ قم مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی ۱۳۸۷، ص ۱۳۵۔ ۲۳۸ ۔
۳۴ ۔ و انما قلب الحدث کالأرض الخالیۃ… ۔
۳۵ ۔ من الوالد الفان المقرّ المدبر العمر المستسلم للدّھر الذامّ للدّنیا الساکن مساکن الموتی و الظّاعن عنھا، الی المولود المؤمّل… ۔
۳۶ ۔ فانی أوصیک بتقوی اللہ ای بُنیّ و لزوم امرہ… ۔
۳۷ ۔ فاسخلصت لک من کل امرٍ تخیلۃٍ و… ۔
۳۸ ۔ و اعرض علیہ اخبار الماضین و… ۔
۳۹ ۔ و اعلم یا بنی انّ احداً لم ینبی عن اللہ سبحانہ… ۔
۴۰ ۔ و اذکر بذکر الموت و قدّرہ بالقتاہ… ۔
۴۱ ۔ فانی أوصیک بتقوی اللہ یا بنی و لزوم امرہ و عمارۃ قلبک بذکرہ… ۔
۴۲ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۴۲، ۱۹۴و نامہ ھای ۳۱، ۵۳ و حکمت ۲۴۳۔
۴۳ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۳۸ و ۲۳۴ (قاصعہ)
۴۴ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ۵۳ ۔
۴۵ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ھای ۳۱ و ۵۳ ۔
۴۶ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۱۵۹ و نامہ ۳۲ و حکمت ھای ۱۲۸۔ ۳۶۰ و ۴۳۱۔
۴۷ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ھای ۳۹ و ۷۰۔
۴۸ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ۵۳ و حکمت ۴۰۶۔
۴۹ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ھای ۴۱، ۴۳ و ۷۱ ۔
۵۰ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ۵۰و حکمت ھای ۱۲۸ و ۳۶۰ و ۳۷۲۔
۵۱ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۳، ۳۳، ۱۰۵ و نامہ ۷۸۔
۵۲ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۱۵ و ۱۶۸۔
۵۳ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۳۲، ۱۳۱و ۱۴۴۔
۵۴ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۳، ۱۸۱ و نامہ ۳۔
۵۵ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۳۴، ۳۹، ۱۹۹و نامہ ۶۲۔
۵۶ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۲۱، ۱۶۶۔
۵۷ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ھای ۱۶، ۱۴۲، ۱۸۱ و ۲۰۰ و نامہ ھای ۲۷ و ۳۱ و حکمت ھای ۴۷۰ و ۳۹۶۔
۵۸ ۔ نھج البلاغہ، حکمت ۱۲۴۔
۵۹ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۱۶۶۔
۶۰ ۔ نھج البلاغہ، نامہ ھای ۱۹، ۵۳، ۶۵ و ۷۴۔
۶۱ ۔نھج البلاغہ، خطبہ ۲۳۴۔
۶۲ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۱۱ و حکمت ھای ۷۹ و ۱۰۷۔
۶۳ ۔ بعض نے کھا ھے کہ وہ ابوذر غفاری بن مظعون تھے ۔
۶۴ ۔ نھج البلاغہ، حکمت ۲۹۰۔
۶۵ ۔ نھج البلاغہ، حکمت ۲۹۰۔
۶۶ ۔ محمد دشتی، ترجمہ نھج البلاغہ، ص ۱۳۱(اس ترجمہ میں شمارہ خطبہ، ۸۳ ھے)
۶۷ ۔ نھج البلاغہ، خطبہ ۸۲ ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
8+1 =