پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

معصومین علیہم السلام سے متوسل ہونے کے لئے کون سا بہترین طریقہ اور راستہ ہے؟ کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی توسل رائج تھا؟


توسل کی چند قسمیں ہیں جن میں سے بعض کو بیان کیا جا رہا ہے۔

۱۔ اولیاء الہی کے واسطے سے خدا سے درخواست کرنا

١۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: خداوند عالم فرماتا ہے اے میرے بندوں میرے نزدیک محبوب ترین اور افضل ترین مخلوق محمد(ص)و ان کے بھائی علی (ع)اور ان کے بعد آنے والے امام (ع)ہیں یہ میری جانب و سیلہ ہیں۔
جو شخص حاجت رکھتا ہویا فائدہ چاہتا ہو یا کسی سخت مشکل میں گرفتار ہو اور اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہو، تو مجھے محمد و آل محمد کے ذریعہ سے پکارے تاکہ میں اس کی حاجت کو بہتر طریقہ سے پورا کروں۔1

٢۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں: جس وقت خدا کی بارگاہ میں حاجت رکھتے ہو، اس طرح سے کہو(الّھم انی اسئلک بحق محمد و علی ....)2
پرور دگارا میں تجھ سے محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و علی علیہ السلام کے صدقہ میں سوال کرتا ہوں کیونکہ ان کا مرتبہ تیرے نزدیک بلند ہے۔ اسی منزلت و مر تبے کی وجہ سے تجھ سے چاہتا ہوں کہ محمد و آل محمد پر صلواة بھیج اور میری حاجت کو پورا فرما۔

٣۔ سمہودی جو علماء اہل سنت سے ہیں وہ اپنی کتاب میں اس عنوان سے (زائر کا متوسل ہونا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےاورانھیں شفیع قرار دینا خدا کی بارگاہ میں) لکھتے ہیں: جان لو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مدد کے لئے پکارنا اور ان کے مقام و منزلت کو خدا کی بارگاہ میں شفیع قرار دینا انبیاء، مرسلین اور صالحین کی سیرت میں سے ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خلقت سے پہلے اور خلقت کے بعد چاہے ان کی زندگی میں یا ان کی رحلت کے بعد، چاہے عالم برزخ میں یا آخرت میں ہر حال میں ان سے متوسل ہونا جائز ہے۔
عمربن خطاب کا بیان ہے: جب جناب آدم علیہ السلام ترک اولیٰ کے مرتکب ہوئے تو بارگاہ خدا میں توبہ کرتے ہوئے اس طرح سے کہا :
(یا ربّ اسئلک بحق محمدٍلمّا غفرت لی)3
بار الہٰ تجھے محمد و آل محمد کے حق کا واسطہ مجھے بخش دے۔

٤۔عمر ابن خطاب کا جناب عباس سے متوسل ہونا:
ہل سنت کی معتبر کتابوں میں ذکر ہوا ہے جب بھی قحط اور خشکسالی پڑتی تھی عمر ابن خطاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا جناب عباس سے متوسل ہوتے ہوئے بارش کی دعا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے:
"ھذاوالله الوسیلة الی الله والمکان منہ"
خداکی قسم عباس بارگاہ خدا کے لئے وسیلہ ہیں ۔ کیونکہ انکا مقام خدا کے نزدیک بلند ہے۔
"الھم انا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقانا"
بار الہ ہم سب تجھ سے تیرے نبی کے چچا کے ذریعہ سے متوسل ہوتے ہیں، ہمیں سیراب کر۔4
"الھم انا نستسقیک بعم نبیک و نستشفع الیک بشیبہ"
پرور دگارا ہم سب تیرے نبی کے چچا کے ذریعہ سے بارش چاہتے ہیں اور انکے سفید بال (بزرگی) کو تیری بارگاہ میں شفیع قرار دیتے ہیں۔5

٥۔اصحاب کو توسل کی تعلیم:
عثمان بن حنیف کا بیان ہے، ایک دن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور میں تھا آپ نے اس شخص کو جو اپنی مشکل لیکر آیا تھا دعا اور توسل کرنے کا طریقہ اس طرح سے تعلیم فرمایا: جاوٴ وضو کرو اور دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد اس طرح سے کہو :
" اللہم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک نبی الرحمہ یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی لتقضی، الھم شفعہ فیّ" 6
بار الہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نبی کے ذریعہ سے جو نبی رحمت ہیں اور تیرے ہی جانب متوجہ ہوں اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے آپ کے وسیلے سے خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا کی ہے تاکہ میری حاجت پوری ہوجائے اے خدا اپنے نبی (ص)کو میرے لیئے شفیع قرار دے۔

۶۔رسول اکرم کا انبیائے گذشتہ سے متوسل ہونا:
انس بن مالک کا بیان ہے جس دن فاطمہ بنت اسد (س) نے انتقال فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبر کھودنے کا حکم دیا اس کے بعد آپ قبر میں تشریف لے گئے اور اس میں لیٹ کر اس طرح سے دعا کی:
"اللھم اغفرلامی فاطمة بنت اسد و وسّع علیھا مدخلھا، بحقّ نبیّک والانبیاء الّذین من قبلی"7
بار الہ تجھے اپنے نبی اور مجھ سے پہلے آنے والے انبیاء کے حق کا واسطہ میری ماں فاطمہ بنت اسد (س) کو بخش دے اور ان کے مقام کو وسعت عطا کر۔

۷۔ امام حسین علیہ السلام دعائے عرفہ میں خداوند عالم سے اس طرح مناجات کرتے ہیں:
"اللھم انّانتوجّہ الیک فی ھذہ العشیہ التی شرفتھاوعظمتھا بمحمد نبیک و رسولک۔ ۔ ۔ " بار الہ شام کے اس وقت میں جسے تونے شرف اور عظمت عطا کی ہے، تیرے نبی(ص) اور رسول اکرم محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعہ سے ہم تیری جانب متوجہ ہیں۔ 8

٢۔ اولیاء الہی سے دعا کی درخواست کرنا

جس طرح سے مومنین اور مومنات سے دعا کی درخواست کرنا صحیح اور نیک عمل ہے اسی طرح اولیاء الہی سے بدرجہ اولی دعا کی درخواست کرنا صحیح اور نیک عمل ہے ۔ یہ بات قرآن سے بھی ثابت ہے۔
حضرت یعقوب کے بیٹوں نے جوظلم اپنے بھائی جناب یوسف پر کیا تھا، جب وہ اپنے گناہوں کے کیئے پر پشیمان ہوئے تو انہوں نے حضرت یعقوب سے کہا :
{یا ابانا استغفرلنا ذنوبنا انّا کنّاخاطئین} 9
اے بابا آپ ہمارے گناہوں کی مغفرت کیلئے خدا سے دعا کریں بیشک ہم سب خطا کار تھے۔
قرآن کریم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے سلسلہ میں ارشاد فرماتا ہے۔
{ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروا الله واستغفروا لھم الرسول لوجدوا الله تواباً رحیماً} 10
اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو وہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔

۳۔ اولیاء الہی سے حا جت طلب کرنا

توسل کی تیسری قسم اس طرح سے ہے کہ اولیاء الہی سے بغیر کسی واسطے کے اپنی حاجت کو طلب کرنا؛ جیسے اس طرح سے کہنا اے اللہ کے رسول میرے مریض کو شفا عطا کیجئے۔ جس طرح سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے ایک صحابی نے آپ سے کہا:
"اسئلک مرافقتک فی الجنة .... "
میں آپ سے چاہتا ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ رہوں 11



1. بحار الانوار، ج ۹۴، ص ۲۲، ح ۲۰
2. بحار الانوار، ج ۹۴، ص ۲۲، ح۱۹
3.۔ مستدرک صحیحین، ج ۲، ص ۶۱۵
4. اسد الغابہ:ج۳، ص۱۶۵۔
5. شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۷، ص۲۷۴-؛ صحیح بخاری: ج ۲، ص۱۶و ج۴، ص۲۰۹؛ صحیح ابن خزیمہ:ج۲، ص۳۳۸۔ صحیح ابن جبان: ج۷، ص ۱۱۱۔
6. مسند احمد بن حنبل: ج۴، ص ۱۳۸۔ مستدرک صحیحین، حاکم نیشاپوری:ج۱، ص۳۱۳۔ سنن ابن ماجہ: ج۱ ص۴۴۱، ح۱۳۸۵۔ التاریخ الجامع (صحاح خمسہ)، ج۱، ص۲۸۶۔ وفاءالوفاء سمہودی:ج۴، ص۱۳۷۳۔سنن ترمذی:، ج۵، ص۲۲۹، ح۳۶۴۹۔
7. وفاء الوفاء سمہودی: ج۳، ص ۸۹۸۔ کنزالعمال:، ج ۱۲، ص۱۴۸، ح۳۴۴۲۵۔ المعجم الکبیر:ج۲۴، ص۳۵۲
8. اقبال، سید ابن طاووس:ج۲، ص۸۵۔
9. سورئہ یوسف: آیة، ۹۷۔
10. سورئہ نساء، آیة ۶۴۔
11. صحیح مسلم، ج ۲، ص ۵۲؛ سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۲۹۷، ح ۲۳۲۰؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۰، ص ۲۰۷۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+5 =